تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

کرغستان کے مذہبی رہنما نے جب یہ اعلان کیا کہ انھوں نے دوسری شادی کر لی ہے

  29 ‬‮نومبر‬‮ 2017   |    09:34     |     بین الاقوامی

کرغستان(ڈیلی آزادنیو زڈیسک )کرغستان کے مذہبی رہنما نے جب یہ اعلان کیا کہ انھوں نے دوسری شادی کر لی ہے اور دوسرے مردوں کو بھی دوسری شادی کا مشورہ دیا تو سوشل میڈیا پر ایک بحث شروع ہوگئی۔نسات میڈیا نامی یو ٹیوب چینل پر مذہبی رہنما چوباک جلیلوف کی ویڈیو شائع کی گئی جس میں وہ انکشاف کرتے ہیں کہ ’میں نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے۔ وہ ابھی تھوڑی ناراض ہے‘۔

اس ویڈیو کو 60 ہزار بار دیکھا جا چکا ہے۔کرغستان کے آئین کے مطابق ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے پر پابندی ہے۔کرغستان کے 2015 کے انتخابات میں جب یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کو قانونی قرار دیا جانا چاہیے تو صرف ایک جماعت نے ہاں میں جواب دیا تھا۔کئی ممالک میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنا غیر قانونی ہے۔ جولائی میں کینیڈا کی سپریم کورٹ نے دو مذہبی رہنماؤں کو سزا دی تھی۔ سابق بشپ ونسٹن بلیکمور نے 24 خواتین سے اور ان کے سابق بہنوئی نے پانچ شادیاں کی ہوئی تھیں۔جلیلوف کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی دوسری شادی کسی سے چھپا نہیں رہے۔ ان کی دوسری اہلیہ 30 سالہ بیوہ ہیں جن کا ترکی میں ایک بچہ بھی ہے۔ اور جلیلوف دوسرے مردوں کو بھی دوسری شادی کی ترغیب دے رہے ہیں۔آخر سابق مفتی یہ مشورہ کیوں دے رہے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ کرغز خواتین روس، ترکی اور چین جا رہی ہیں۔’ان کا کرغزستان میں خیال رکھا جانا چاہیے۔ میں مفلس ہم وطنوں کو خوراک فراہم کر رہا ہوں‘۔ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو اپنے شوہروں کو دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دینی چاہیے لیکن سب اس مشورے سے خوش نہیں ہیں۔وہ خود کہتے ہیں ’میری پہلی بیوی کچھ خفا ہے لیکن میرا خیال ہے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ خفا ہونا اور حسد کرنا اس کا حق ہے‘۔کچھ افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے صحیح کیا ہے۔ سلطانوف کا کہنا ہے کہ ’شریعت میں مردوں کو (دوبارہ شادی کرنے کے لیے) پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے‘۔بلاگر ڈینیئر عثمان اس بات سے متفق نہیں اور انھوں نے فیس بک پر لکھا کہ ایک سیکولر ریاست اور سول سوسائٹی کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔’جلیلوف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ سیکولر ریاست کے قوانین، خواتین کے حقوق، آئین اور ضابطہ فوجداری پر تھوکتے ہیں۔ جلیلوف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ کرغزستان میں آئین پہلے نہیں ہے بلکہ قرآن پہلے ہے‘۔عثمان نے مزید کہا کہ جلیلوف کئی برسوں سے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کو قانونی قرار دینے کی کوشش میں ہیں لیکن ناکام رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق مفتی اب اس طریقے سے اپنا مقصد پورا کرنا چاہتے ہیں۔تاہم عثمان کے بلاگ پر ایک صارف نے جواب میں کہا ’آج کل ہر دوسرے مرد کی دو بیویاں ہیں۔ صدر کی دو بیویاں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ عوامی سطح پر اپنی پہلی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں جبکہ جلیلوف نے اپنی پہلی بیوی کے ساتھ ایسا نہیں کیا اور دوسری بیوی کی بھی ذمہ داری لے لی۔ اگر دوسری بیوی کو دوسری بیوی ہونے پر اعتراض نہیں تو مسئلہ کیا ہے؟‘دوسری جانب ایک اور صارف نے جواب میں مردوں سے استدعا کی کہ پہلی بیوی کو طلاق دے کر ہی دوسری شادی کریں۔’دس برسوں میں یہ قانونی ہو جائے گا اور 20 برسوں میں ہم شریعہ کے مطابق رہ رہے ہوں گے‘۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

بین الاقوامی خبریں

 
 

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>