تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

ٹرمپ کابیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر غور

  2 دسمبر‬‮ 2017   |    02:24     |     بین الاقوامی

واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر غور کر رہے ہیں،اس اقدام پر عمل کی صورت میں کئی دہائیوں سے جاری امریکی پالیسی اختتام پذیر ہو گی اور ساتھ ہی مشرق وسطی میں کشیدگی میں اضافے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ تاہم توقع ہے کہ ٹرمپ امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس

منتقل کرنے کے اپنے وعدے پر عمل درامد موخر کر دیں گے۔غیر ملکی میدیا کے مطابق امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ہونے کا اعلان کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ٹرمپ سے پہلے آنے والے امریکی صدور اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ادھر جانب فلسطینی فریق مشرقی بیت المقدس کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت چاہتا ہے۔ عالمی برادری اسرائیل کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی ہے کہ پورے شہر پر اس کا حق ہے۔ٹرمپ کی جانب سے کسی بھی موقع پر اعلان کیا جانے والا یہ فیصلہ فلسطینیوں اور عرب دنیا کو غیض و غضب میں مبتلا کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں طویل عرصے سے تعطل کا شکار فلسطینی اسرائیلی امن بات چیت کے دوبارہ آغاز کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششیں بھی سبوتاژ ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب یہ اقدام اسرائیل کے ہمنوا دائیں بازو کے بلاک کو راضی کر سکتا ہے جس نے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی جیت میں مدد کی۔ذمے داران کا غالب گمان ہے کہ ٹرمپ اپنے پیش رو صدور کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک فیصلے پر دستخط کریں گے جس کے تحت 1995 سے وابستہ اس قانون پر عمل درامد چھ ماہ کے لیے ملتوی کر دیا جائے گا جو امریکی سفارت خانے کے تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا تقاضہ کرتا ہے۔بعض امریکی ذمے داران نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کے ساتھ خبردار کیا کہ مذکورہ منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہے اور صدر ٹرمپ اس کے کچھ حصوں کو تبدیل کر سکتے ہیں۔امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیزر نائرٹ جمعرات کے روز بتا چکی ہیں کہ اس حوالے سے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا۔ٹرمپ نے گزشتہ برس اپنی صدارتی انتخابات کی مہم میں عہد کیا تھا کہ وہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیں گے۔ تاہم انہوں نیرواں برس جون میں اس وعدے پر عمل درامد کو اس خواہش کے ساتھ موخر کر دیا کہ وہ امن کی مہم کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔ اس مہم کی قیادت ٹرمپ کے داماد اور قریبی مشیر جیرڈ کشنر کے ہاتھ میں ہے اور ان کوششوں کے سلسلے میں ابھی تک کوئی قابل ذکر پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔واضح رہے کہ بیت المقدس کی پوزیشن اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے اقرار کے سامنے ایک مرکزی رکاوٹ ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر کے اس کو اپنی ریاست میں شامل کر لیا تھا۔ اس قدام کو عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔فلسطینی رہ نماں ، عرب حکومتوں اور مغربی حلیفوں کی جانب سے ٹرمپ پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے کے سلسلے میں پیش رفت نہ کریں۔ اس لیے کہ ایسا ہونے کا مطلب درحقیقت اسرائیل کا پورے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت بنانے کا دعوی تسلیم کرنا ہے۔اس حوالے سے اب اہم استفسار یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ ایک سرکاری صدارتی اقدام کی صورت میں سامنے آئے گا یا پھر ٹرمپ کی جانب سے محض ایک ذاتی بیان کی حد تک رہے گا۔ٹرمپ کے بعض سینئر معاونین ان کو اکسا رہے ہیں کہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں تا کہ اپنے حامیوں کو خوش کر سکیں جب کہ دیگر بعض معاونین ان کو خبردار کر رہے ہیں کہ اس طرح واشنگٹن کے عالمِ اسلام کے ساتھ تعلقات کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

بین الاقوامی خبریں

 
 

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>