تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

ٹرمپ کے اعلان پر فلسطینیوں نے ‘‘ القدس ہمارا’’ کی نئی تحریک شروع کر دی، سرائیلی فوج سے جھڑپوں میں 31 فلسطینی زخمی ہوگئے

  9 دسمبر‬‮ 2017   |    07:22     |     بین الاقوامی

غزہ: (ڈیلی آزاد) امریکی صدر ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان پر فلسطینیوں نے ‘‘ القدس ہمارا’’ کی نئی تحریک شروع کر دی، ٹرمپ کے اعلان پر فلسطینیوں نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔ اسرائیلی فوج سے جھڑپوں میں 31 فلسطینی زخمی ہوگئے۔ صیہونی فوج نے راکٹ حملے پر غزہ کی پٹی کے علاقے میں بمباری کر دی۔ متنازعہ اعلان کے بعد امریکہ سفارتی محاذ پر تنہا رہ گیا، اس عجیب فیصلے کے تمام بڑے ممالک مخالف ہیں۔ جمعرات کومغربی کنارے، غزہ، الخلیل، البیرہ، بیت اللحم اور بیت المقدس کے مشرقی گیٹ کے دروازے پر ہزاروں فلسطینیوں نے مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے ٹرمپ کے پتلے اور امریکی جھنڈے نذر آتش کیے۔ مظاہرین نے بیت المقدس فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے کے نعرے لگاتے ہوئے مارچ بھی کیا۔ صیہونی فوج نے فلسطینیوں پر شدید شیلنگ کی جس سے کم ازکم 31 فلسطینی زخمی ہوئے۔ غزہ سے اسرائیل پر تین راکٹ فائر کیے گئے جس کے جواب میں صیہونی فوج نے غزہ کی پٹی کے علاقے میں دو مقامات پر بمباری کر دی۔ بمباری سے متعدد فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔فلسطینی وزیر تعلیم نے تمام تعلیمی اداروں کے لیے عام تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے اساتذہ اور طلبہ کو احتجاجی مظاہروں میں شریک ہونے کی ہدایت کر دی۔ بیت اللحم میں بطور احتجاج کرسمس کی روشنیاں بھی بند کر دی گئیں۔ اسرائیل نے غربِ اردن میں سینکڑوں مزید فوجی تعینات کر دیئے، فلسطینی آزادی کی تحریک چلانے والی جماعت حماس کے سربراہ اسماعیل حانیہ نے غزہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نئی انتفاضہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا امریکی حمایت یافتہ صیہونی پالیسیوں کا راستہ نئی انتفاضہ سے ہی روکا جاسکتا ہے۔ آج کا جمعہ انتفاضہ کا پہلا دن ہوگا۔ اسماعیل حانیہ نے رواں برس جولائی میں مقبوضہ بیت المقدس میں الاقصیٰ کمپاؤنڈ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے میٹل ڈیٹکٹرز کی تنصیب کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مظاہرے نے اسرائیلی وزیراعظم کی ناک خاک آلود کردی تھی۔ انہوں نے کہا حماس کے تمام ونگز کو اس حوالے سے تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔اسلامک جہاد کے مسلح فلسطینی گروپ نے بھی انتفاضہ کی حمایت کر دی۔ لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے بھی حماس کی حمایت کر دی۔ لبنان کے دارالحکومت عمان میں بھی ہزاروں افراد نے امریکہ کیخلاف مظاہرہ کیا۔ ترکی، مصر، قطر، کویت اور دیگر ممالک میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ حزب اللہ نے کہا ہے امریکہ کا اعلان فلسطینیوں کیخلاف اعلان جنگ ہے۔ حقوق کے حصول کا واحد طریقہ مزاحمت ہی ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے ترجمان کے ذریعے بیان میں کہا وہ ٹرمپ کے فیصلے کی قطعی حمایت نہیں کرتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یروشلم کے رتبے کے بارے میں فیصلہ صرف دو ریاستوں پر مبنی حل کے تحت ہو سکتا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے بھی ٹرمپ کے فیصلے سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا ہم امریکہ کے فیصلے سے متفق نہیں۔ اردن نے اعلان کو بین الاقوامی اصول کے منافی قرار دیا ہے۔ مصر نے بھی امریکی اعلان کو مسترد کر دیا۔سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے شاہی بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کا فیصلہ بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ ہے، یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے منافی ہے۔ امام کعبہ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس نے کہا بیت المقدس عرب اور اسلامی شہر ہے اور یہی اس کی شناخت باقی رہے گی۔ عرب ٹی وی کے مطابق انہوں نے حرمین شریفین کے علما کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول اور تیسرا حرم شریف ہے۔ یہ رسول اکرمؐ کی جائے اسراء بھی ہے۔ مسئلہ فلسطین اور بیت المقدس کے حوالے سے سعودی عرب کا اصولی موقف ہے۔ ایک فلسطینی عہدیدار نے کہا ہے رواں ماہ کی 19 تاریخ کو امریکی نائب صدر کا فلسطین میں استقبال نہیں کیا جائے گا،ان کی محمود عباس سے ملاقات بھی نہیں ہوگی۔ ترک صدر نے کہا ٹرمپ نے اعلان کر کے بم کی پن کھینچ دی ہے۔ ترک صدر نے معاملے پر روسی ہم منصب سے رابطہ کیا۔ کریملن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں نے امریکی اعلان پر تشویش کا اظہار کیا۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات کی اور تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف فیڈریکا موغیرینی نے کہا بیت المقدس فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بھی بننا چاہیے۔ ویانا میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے کہا صدر ٹرمپ کا اعلان صرف حقیقت کا ادراک ہے، اسرائیل کے اہم دفاتر پہلے ہی بیت المقدس میں ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ٹرمپ کا اعلان اسرائیل کے قیام جتنا اہم ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کرلیا گیا۔عرب لیگ نے فلسطین اور اردن کی درخواست پر قاہرہ میں ہنگامی اجلاس کل طلب کرلیا جبکہ او آئی سی کا ہنگامی سربراہی اجلاس بھی 13 دسمبر کو استنبول میں منعقد کیا جائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فرانس، بولیویا، مصر، اٹلی، سینیگال، سویڈن، برطانیہ کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کیا گیا ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پرغور کیا جائے گا۔ اس حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتوینوگوتریز کا کہنا تھا اسرائیل اور فلسطین کے رہنمائوں کوبامقصد مذاکرات اور تنازع کے پرامن حل پر قائل کرنے کیلئے تمام ممکنہ کوششیں کی جارہی ہیں، مقبوضہ بیت المقدس کے مستقبل کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہئے ، وہ آپس میں مل بیٹھیں اور تصفیہ طلب مسائل کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں۔ادھر پاکستان نے سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ معاملات بگڑنے سے پہلے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ کے امن عمل کی تباہی کاباعث ہوگا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا نوٹس لے جبکہ اس معاملے پر ترکی کی جانب سے اسلامی سربراہ کانفرنس بلانے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ صدر ممنون نے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا توقع ہے امت مسلمہ واقعہ کا سخت نوٹس لے گی۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے صدر ممنون حسین کو ٹیلیفون کیا، دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی اعلان پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے منفی اثرات ہوں گے۔ قومی اسمبلی نے امریکی اعلان کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

بین الاقوامی خبریں

 
 

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>