تازہ ترین :

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں 

ad

گجرات کا الیکشن راہل گاندھی کا بریکنگ آؤٹ لمحہ ثابت ہوسکتا ہے، " پپو " کا ٹیگ آسانی سے نہیں چپکے گا

  19 دسمبر‬‮ 2017   |    07:18     |     بین الاقوامی

انڈیا(ڈیلی آزاد) گجرات کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی تو ہاری لیکن راہل گاندھی نہیں! اب وہ ایک نئے زیادہ پر اعتماد کردار میں نظر آئیں گے اور انھیں 'پپو' کہنے والے ان کی تضحیک کے نئے راستے تو تلاش کرتے رہیں گے لیکن اب یہ ٹیگ آسانی سے چپکے گا نہیں۔یہ راہل گاندھی کے لیے بھی اچھی خبر ہے اور ملک میں جمہوریت کے لیے بھی۔گجرات کا الیکشن راہل گاندھی کا 'بریکنگ آؤٹ' لمحہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کو سپورٹس کا شوق ہے تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ کسی بھی کھیل میں صفِ اول کے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں زیادہ فرق نہیں ہوتا،

بس ایک دن اچانک وہ ایک اچھی اننگز کھیلتے ہیں، اچھا گول کر دیتے ہیں یا ایک کانٹے کا مقابلہ جیت لیتے ہیں اور انھیں لگنے لگتا ہے کہ وہ کسی کو بھی ٹکر دے سکتے ہیں۔یہ اعتماد کا کھیل ہے اور راہل گاندھی نے گذشتہ چند مہینوں میں دکھا دیا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو نہ صرف چیلنج کرسکتے ہیں بلکہ اس میں انھیں مزا بھی آنے لگا ہے۔راہل گاندھی کا مذاق اڑانے کے لیے سوشل میڈیا پر جو لطیفے گردش کرتے رہے ہیں، ان میں ہمیشہ صرف ایک ہی پیغام ہوتا ہے اور وہ یہ کہ وہ احمق ہیں اور سونیا گاندھی کی انگلی پکڑ کر ہی چل سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سونیا گاندھی ان کے جوتوں کے سامنے 'ٹی جی آئی ایف' کیوں لکھتی ہیں؟ انھیں یہ یاد دلانے کے لیے کہ 'ٹوز گو ان فرسٹ' یعنی جب جوتے پہننے ہوں تو پہلے پنجا اندر ڈالیں!کانگریس کے حامیانتصویر کے کاپی رائٹکانگریس پارٹی نے راہل گاندھی کی قیادت میں گجرات میں بڑی پیش رفت کی ہےیا جب وہ ہاتھ دھونے کے لیے واش روم گئے تو بیسن دھو کر کیوں باہر آئے؟ کیونکہ اندر لکھا تھا : واش بیسن!یہ لطیفے خود بہ خود نہیں بنتے، ایک خاص مقصد سے بنائے جاتے ہیں جس کا ذکر خود راہل گاندھی اور سونیا گاندھی نے بھی کیا ہے۔لیکن جس انداز میں انھوں نے گجرات کے نتائج آنے سے پہلے پارٹی کے صدر کا عہدہ سنبھالا اور جس طرح ریاست میں انتخابی مہم کی قیادت کی، اس سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ اب ان کی جز وقتی سیاست کا دور ختم ہوگیا ہے۔ آخرکار وہ اپنی زیادہ پر کشش بہن پرینکا گاندھی اور والدہ سونیا گاندھی کے سائے سے باہر آنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 
اپنی رائے کا اظہار کریں -

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

بین الاقوامی خبریں

 
 

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین تصاویر


>